بریکنگ نیوز

بغیر رقص کیے خاک کو اڑاتا گیا........... از احمد رضا

بغیر رقص کیے خاک کو اڑاتا گیا
قین طاق میں رکھ کر گماں نبھاتا گیا

یہ شاہکار بلاتا تھا رات دن مجھ کو
یہ بننا چاہتا تھا خود, سو میں بناتا گیا

وہ شہرِ حسن تھا سو واں سے جب گزر تھا مرا
جھکا کے آنکھیں ندامت سے منہ چھپاتا گیا

جو غم ملے تھے مجھے وہ تو میرے تھے ہی نہیں
یہ میرا ظرف تھا چپ چاپ بوجھ اٹھاتا گیا

حریمِ احمدِ مرسل تھا دور مجھ سے بہت
درود پڑھتا گیا, فاصلہ مٹاتا گیا

شاعر: احمد رضا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے