بریکنگ نیوز

ایک Effective استاد بننے کے12 اہم اصول - سید عرفات حیدر

ایک Effective استاد بننے کے12 اہم اصول
از قلم سید عرفات حیدر
(خصوصی شکریہ سر قاسم علی شاہ )


1)ٹیچنگ کو بطور پرو فیشن نہیں بطور Responsibility لیں۔ٹیچنگ ٹائم پاس کے لیے نہ ہو نہ ہی اس کا مقصد پیسہ کمانا ہو ایک حقیقی استاد معاوضہ کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ وہ یہ سوچ رکھتا ہے کہ یہ محنت میں بچوں پر نہیں بلکہ اپنی ذات پر کر رہا ہوں اور اس سے میری روح کو انرجی ملتی ہے ۔روح کی انرجی ہی اصل تکمیل ہے۔
2)ایک بہترین ٹیچر ہمیشہ motivated اور full of energy ہوتا ہے وہ اپنے انداز اور رویے سے اپنی روح کی انرجی اپنے بچوں کو منتقل کرتا ہے۔وہ true concerns رکھتا ہے۔
3)ایک اچھے ٹیچر کے لیے experienced ہوناmatter نہیں کرتا البتہ اپنے مضمون پر grip ہونا ضروری ہے۔ ٹیچر کی زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ lesson پلاننگ کرے سبجیکٹ کمانڈ ہونے کے باوجود خود book reading کی عادت اپناۓ کیونکہ learning کبھی ختم نہیں ہوتی ۔اور evaluation کا طریقہ بہترین ہو۔
4)ایک ٹیچر ایک بہترین لیڈر ہوتا ہے اور ایک کامیاب ادارہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیچر کو leading رول دیا جاۓ۔
لہذا ٹیچر بہترین ڈرائیور کا کردار ادا کرے اور گاڑی کو خوشگوار مقامات تک لے جاۓ۔
5)ایک ٹیچر کو یقین دینے والا ہونا چاہیے۔ خدا اور خدا کے کرم پر یقین ہونا ہی ترقی کا راز ہے۔ بچوں کو یہ ازبر کروایا جاۓ کہ یقین کا پہلا نمبر ہے ذہین کا نہیں۔لہذا بچوں کو ان کی صلاحیت و محنت پر یقین دلوائیں کہ رب نے کبھی کسی کی محنت ضائع نہیں کی۔ جب بھی کوئی شخص آگے بڑھنا شروع ہوتا ہے تو قدرت اس کی معاون ہو جاتی ہے اور اس کےلیے راستے بنانا شروع کر دیتی ہے جیسا کہ پائیلو کو ہیلو لکھتا ہے
جب تم کسی چیز کی بھرپور دل سے خواہش کرتے ہو تو یہ ایک مثبت طاقت ہوتی ہے اور کائنات کی ہر چیز اس طرح تمھاری مددگار ہو جاتی ہے کہ تم اسے حاصل کرلو۔
جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے
اللہ اس کا ساتھ ضرور دیتا ہے جو ثابت قدم ہوتا ہے 
کیونکہ
بس پہلی اڑان مشکل ہے
پھر کہاں آسمان مشکل ہے
6)ایک بہترین ٹیچر با مقصد ہوتا ہے اس کا مقصد دیہاڑی دار مزدور کی طرح پیسہ کمانا نہیں ہوتا بلکہ بچوں کو vision دینا ہوتا ہے۔ 
بہترین ٹیچر بننے کےلیے اپنی زندگی میں مقصد پیدا کریں کیونکہ مقصد دینے کےلیے ضروری ہےآپ کے پاس بھی مقصد ہو اگر آپ کی زندگی میں کوئی مقصد ہے تو یہ شعور آپ کے بچوں میں بھی منتقل ہو گا۔
یاد رکھیے مقصد کے بغیر زندگی جانور کی زندگی ہے لہذا بچوں کو بڑے خواب دیں اور خوابوں کی تعبیر کا اسم اعظم(محنت و یقین ) دیں لہذا ان کو متاثر کریں کہ وہ اپنی محنت پر یقین رکھیں
7)ایک بہترین ٹیچر ٹیم بنانا جانتا ہے اور ہمیشہ cooperativeانسان ہوتا ہے۔لہذا سٹوڈنٹ کے ساتھ cooperate کریں ان کو ذلیل نہ کریں تاکہ بچے کے دل میں آپ کے لیے عزت و محبت پیدا ہو اور آپ کے لیے عزت و محبت پیدا ہونے کا مطلب آپ کے سبجیکٹ کےلیے عزت و محبت ہے۔ 
دنیا کا ہر انسان ترقی کرنا چاہتا ہے اور ترقی کا بنیادی فارمولا cooperation ہے یعنی جب آپ دوسروں کے ساتھ cooperation کرتے ہیں تو آپ دوسروں کے ساتھ cooperate نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اپنے ساتھ cooperate کر رہے ہوتے ہیں۔
8)ایک بہترین ٹیچر ہمیشہ باکردار ہوتا ہے وہ اپنے characterسے نسل نو کو متاثر کرتا ہے۔ یاد رکھیے گا دنیا کے کامیاب ترین لوگ ہمیشہ باکردار ہوتے ہیں۔
9)ایک ٹیچر کے پاس ہمیشہ convincing powerہوتی ہے اس کا  لب و لہجہ ،body languageاور expression بہترین ہوتے ہیں۔ وہ اپنےامور میں expert ہوتا ہے اور ایسے ملاح کا کام کرتا ہے جو کشتی چلانا جانتا ہے۔
ٹیچر میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو space and time سے باہر لے جا سکتا ہے۔وہ استاد ہی نہیں جو کلاس کو engage نہ کر سکتا ہو۔یاد رکھیے جب استاد کا جسم،دماغ اور soulہم آہنگ ہو گی تو بچے خود ہی engageہو جائیں گے اور لہجے میں ایسی effectivenessآۓگی کہ بچے bore ہو کر سوئیں گے نہیں۔
10)ایک بہترین ٹیچر کے پاس visionہوتا ہے وہ inputکے بدلے میں ملنے والی outcomesسے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ وہ کیوں پڑھا رہا ہے؟اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟وہ یہ جانتا ہے کہ اس کی محنت کتنی نسلوں کو متاثر کرے گی لہذا ٹیچنگ کو چھوٹا کام مت سمجھیے کیونکہ یہی قوموں کو بناتا ہے
11)ایک بہترین ٹیچر شکر گزار ہوتا ہے۔اگر اپ کو اللہ نے کچھ عطا کیا ہے اور آپ اس میں دوسروں کو شامل کرنا شروع لگ پڑیں توآپ شکر گزار انسان ہیں۔ایک عملی شکر یہ ہے کہ اپنا علم دوسروں کو عطا کریں۔
12)ایک بہترین ٹیچر جذبے سے پڑھاتا ہے وہ سبجیکٹ سے باہر جا کر بچوں کو زندگی دیتا ہے لہذا بچوں کو زندگی پڑھائیں اور سکھائیں تاکہ بچوں میں color پیدا ہو یاد رکھیے ایک ٹیچر جانتا ہے کہ اس کی آنکھ میں چمک اور تڑپ یقینا بچے کی آنکھ کی چمک اور تڑپ بنتی ہے
لہذا لاش کی طرح کلاس میں پڑھانا اور گھر چلے جانا ٹیچنگ نہیں بلکہ بچوں کو جذبہ دینا اور بجلی پیدا کرنا ٹیچنگ ہے۔
ایک موثر ٹیچر جانتا ہے کہ میں کافی نہیں ہوں مجھے اپنی طرح کے کئی کافی لوگ چاہیے لہذا وہ اپنا یہ شعور دوسروں میں منتقل کرتا ہے جس سے نہ صرف نسلیں بلکہ قومیں سنورتی ہیں۔
المختصر
 یہ کہ امید بانٹنے والے بنیں محرومیاں بچوں میں منتقل کر کے ان کو complex میں نہ ڈالیں۔اپنے اوپر کام کریں اور اپنی personality کو developکریں۔gracefull بنیں آپ کے mannersسے لگے کہ آپ ٹیچر ہیں اور لوگ آپ کو idelaize کریں۔بچوں میں اس وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کریں اور لسانیت،رنگ نسل اور فرقہ واریت کا سبق دینے کی بجاۓ ایک مسلمان اور ایک پاکستانی ہونے کا درس دیں۔ان میں یہ جذبہ پیدا کریں کہ وہ ایک تنکا بنیں جس سے ملک پاکستان کی بنیاد مضبوط ہو۔
بشکریہThe Ambitious Educational System

پہلی اڑان از قلم سید عرفات حیدر
DREAMـBELIEVEـDO

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے