بریکنگ نیوز

اولاد نگینہ بمقابلہ اولاد نرینہ ۔ ملک عبدالغفور


میرا ایک پیارا سا چهوٹا برخوردار هے _ ستائیس سال عمر هو گی _خوبصورت اور صحت مند _ کوالیفائڈ انجینئر _ نیک  اور پڑهے لکهے ماں باپ کا بیٹا _ فیصل آباد شہر میں گیاره مرلہ آبائی کوٹهی کا مالک جبکہ ایک سرکاری محکمے میں گریڈ ستره کا ملازم هے _
پچهلے چار سال سے میں دیکھ رها هوں کہ اُس کا رشتہ نہیں هو رها _ هر چند دن بعد لڑکے والے رشتہ دیکهنے جا رهے هیں اور لڑکی والے آ رهے هیں لیکن عمومی طور پر لڑکی والوں کی طرف سے انکار هو رها هے _ 
انکار کی وجوهات کیا هیں _ کوٹهی پرانی هے _لڑکا اُس شعبہ میں انجینیر  هے _کسی دوسرے شعبے میں انجینیرنگ کیوں نا  کی _ نوکری  اِس محکمے میں کیوں هے _ کسی دوسرے میں کیوں نہیں _ لڑکے کے دو کان اور ایک ناک کیوں هے _ تین کان اور دو ناک کیوں نہیں _ وغیره وغیره _ مکمل طور پر بے مقصد اور مہمل اعتراضات _ 
ایک دوسرا عزیز هے _ پچیس سال عمر _ صحت مند اور باکردار _ ذاتی رهائش اور ایک اچهے  بزنس کا مالک _ اُس پر بهی غیر متعلقہ اعتراضات کی بهرمار هے _لڑکا پتلا کیوں هے  _ اُسکے گهر میں دادی کیوں رهتی هے _ هماری بیٹی کی بری میں پلاٹ هو گا یا نہیں _سونا کتنا ڈالیں گے _ هماری بیٹی لڑکے کے باپ کو روٹی نہیں پکا کر دے سکتی _ مجموعی طور پر ایک بهی اعتراض ایسا نہیں کہ جو اصول اور حق سچ کی بنیاد پر هو _
ایک تیسرے صاحب هیں _ رنڈوے _ چھ فگر کی ماهانہ فکس آمدن جبکہ ذاتی کاروبار اور مکان وغیره بهی هے _ مکمل صحت مند _ اُن بیڈ فورڈ جیسے صاحب کو ایک پرانی فوکسی جیسی بیگم کی تلاش هے _ اُن پر پہلا اور بڑا اعتراض کہ آپ اب بس اللہ اللہ کریں اور زندگی گزار دیں _ آپ کی کوئی عمر هے شادی کی _ کیا پتا کب بلاوه آ جائے _ بچوں کی شادی کریں اور پوتیاں پوتے کهلائیں _ وغیره وغیره _
روزانہ هی خواتین کی مظلومیت اور مرد حضرات کی زیادتیوں بارے پڑهنے کو کچھ نا کچھ ملتا _ جہیز کی ڈیمانڈ اور لڑکے والوں کے نخروں کا سنتا هوں لیکن زمینی حقائق کچھ اور هیں _
 وه گهر بهی جانتا هوں کہ جہاں بیس تا پینتالیس سال کی چھ چھ غیر شادی شده لڑکیاں بیٹهی هیں _ وه بهی جانتا هوں کہ جہاں بڑی بیٹیاں گهر بٹها کر چهوٹیوں کی شادی کر دی گئی _
 مجموعی طور پر میری رشتہ داری میں اِس وقت شادی کے قابل اٹهاره تا تیس سال کی پچیس لڑکیاں هوں گی جبکہ مقابلتا" شادی کے قابل یا خواهش مند صرف پانچ لڑکے هیں _ لیکن جب رشتے کی بات کریں تو بچیوں کے یا اُن کے والدین کے خیالات  خواهشات اور توقعات آئی فون الیون کی طرح آسمان سے بهی اُوپر جاتے هیں _ خود لڑکے اور یا لڑکے کے افراد خانہ کو لڑکی والے کسی بهی طرح اهمیت دینے کو  تیار هی نہیں _ بیٹی کیلئے سو فیصد حقوق یقینی بنانے کی کوشش هوتی لیکن فرائض کا کہیں ذکر هی نہیں کیا جاتا _
بالا دستی کے اِس جنون میں زائد از ضرورت عزت کا اونچا مینار بنا کر  خواتین نے اپنا مرتبہ اتنا بلند کر لیا هے کہ جہاں تک مرد کی پہنچ کم از کم هو رهی _ 
 جاپان میں تیئس فیصد مرد حضرات شادی تو دور کی بات عورت کے ساتھ کسی بهی قسم کا جائز یا ناجائز تعلق رکهنے سے هی مکمل انکاری هیں _ یورپین اور امریکی مرد بهی جیتی جاگتی عورت چهوڑ کر اکیلے هی رهنے کی طرف راغب هو  رهے _ نتیجتا" دنیا کی آدهی آبادی اس وقت ایک جگہ رکی هوئی اور یا ریورس میں جا رهی هے _
بیٹیاں کوئی پهینک دینے والی چیز تو نہیں هوتیں _ اُن کے مفادات کا تحفظ والدین , معاشره اور پهر ریاست کا فرض هے لیکن حقوق سب بیٹیوں کے اور فرائض سب بیٹوں کے _ تمام تر قوانین کا رخ خواتین کے حق میں _ یہ  مناسب نہیں  _ 
 بیٹوں کو دیوار سے لگا دینا انجام کار خود خواتین کے نقصان میں جائے گا.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے