بریکنگ نیوز

*بچوں پر ہونے والا تشدد روکنا ضروری ہے* *تحریر چودھری عمران اشرف*


اکتوبر ۲۰۱۹ ء میں ضلع اوکاڑہ کے ایک گاؤں میں سگے چچا نے اپنے بھتیجوں پر (جن کی عمر بمشکل دو/چار سال کی تھی) شدید تشدد کیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اس کے خلاف قانون حرکت میں آیا پنجاب پولیس نے مقدمہ درج کیا اور ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر حوالات میں بند کیا گیا۔
اوکاڑہ میں تشدد کے تقریباً ایک ماہ بعد نومبر۲۰۱۹ء میں آج تھوڑی دیر پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ایک چھوٹا سا ویڈیو کلپ دیکھا جو تقریباً ایک منٹ اور پچیس سکینڈ کا ہے اس ویڈیو دیکھ کر شدید صدمہ پہنچا ہے۔
اس ویڈیو میں ایک عورت جس کی عمر تقریباً ۳۰/۳۵ سال کے لگ بھگ ہے وہ اپنے گھر کے صحن میں داخلی دروازہ کی سیڑھیوں پر معصوم چھوٹی بچی جس کی عمر تقریباً پانچ سال کے لگ بھگ ہے جو شاید اس عورت کی سوتیلی بیٹی ہے کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے اور بے حساب تشدد کر رہی ہے جیسے سامنے معصوم بچی کی بجائے کوئی جانور ہے۔ابھی تک حقائق سے مکمل آگاہی نہیں کہ تشدد کرنے والی عورت اس معصوم بچی کی والدہ ہے سوتیلی والدہ ہے یا گھر کی نوکرانی ہے۔ حقائق سامنے آنے پر مزید صورت حال اور تشدد کی وجوہات کا علم ہو سکے گا کہ اس عورت کا رویہ اتنا تشدد آمیز کیوں ہوا اور اس کی کوئی خاص وجہ اگر ہے تو کیا ہے؟
اس طرح کے واقعات دیکھ کر ماں کے قدموں تلے جنت والی بات بھی بے معنی سی لگتی ہے کیونکہ اس طرح معصوم بچوں پر تشدد کرنے والی عورت کوئی سفاک، جابر، درندہ صفت حیوان تو ہو سکتی ہے انسان بلکل نہیں۔اس طرح کا تشدد کسی جانور پر بھی کیا جائے تو وہ بھی بے بس ہو جاتا ہے۔
اس عورت کو شناخت کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ سے کسی اور معصوم پر اس طرح وحشیانہ تشدد نہ ہو۔مجھے تو تشدد کرنے والی عورت کوئی ذہنی مریض لگتی ہے جو بچپن سے احساس کمتری کا شکار ہے اور اس معصوم بچی پر تشدد کر کے اپنے آپ میں احساس برتری محسوس کر رہی ہے۔یہ رویے ہم کو بطور معاشرہ اور قوم انتہائی پستی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔
اگر آج ہم خاموش رہے تو نا جانے کتنے ہی بچے اس طرح کی حیوانیت کا شکار ہوتے رہیں۔
کسی بھی قسم کا جرم کرنے والے جرائم پیشہ افراد کسی بھی جنس ، مذہب، مسلک یا قومیت سے ہوں ان کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ آئندہ سے لوگوں کو جرم کرنے سے پہلے اس بات کا خوف ہو کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو قانون کی گرفت سے بچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ عام شہریوں کو بھی جرم دیکھنے کی بجائے روکنے کی عادت ہو جائے یا کم از کم حق کی گواہی تو دینا شروع کر دیں۔
اس بچی پر ہونے والے تشدد سے سبق سیکھیں اور اپنے بچوں سے بات چیت کر کے ان کے حالات پوچھیں۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے بچے بھی معاشرہ کے کسی حیوان کی حیوانیت کا شکار ہو رہے ہوں ! بچوں سے پیار کے ساتھ پوچھیں کہ آپ کا استاد ، قاری ، چچا، ماموں، پھوپھو، خالہ ، انکل ، آنٹی ، بھائی ، بہن ، ماں ، باپ ، کزن ، دوست یا کوئی دیگر فرد تشدد ، مارپیٹ یا کسی اور طریقہ کا جنسی استحصال تو نہیں کرتے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو اس بات کو سنجیدگی سے لیں اور اس کا فی الفور تدارک کریں۔یاد رکھیں اگر آپ پیار اور حلیمی سے اپنے بچوں کو یہ سوال پوچھیں گے تو جواب آپ کی توقع کے خلاف ہوں گے اور معاشرہ میں بہتری اور امن و امان کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو تشدد سے بچائیں۔
تشدد بچوں کی ذہنی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے ۔ جن بچوں پر والدین تشدد کرتے ہیں ان کے ذہن میں انتقام اور بغاوت جنم لیتی ہے جب وہی بچے جوان ہوتے ہیں تو وہ اس تشدد کا بدلہ پورے معاشرہ سے لیتے ہیں۔
آپ اپنے آنے والے کل کو محفوظ کرنے کے لئے آج فیصلہ کریں اور اپنے اردگرد معاشرہ میں ہونے والی لاقانونیت کے خلاف دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں۔
بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ہم نے اپنے مستقبل کو زہنی مریضوں سے بچانا ہے۔ معاشرہ میں بہتری لانا صرف اور صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ ایک انسان کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے ہمیں اپنے معاشرہ کی ماں کو تشدد سے روکنا ہے اور معاشرہ کی بہتری کے لئے اپنے بچوں کی بہتر پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا ہے۔
آئیں ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صہ کی سنت کے مطابق اپنے بچوں کی بہترین پرورش و تعلیم تربیت کی کوشش کریں گے تاکہ ہمارا آج گزرے کل سے اور ہمارا آنے والا کل ہمارے آج سے بہتر ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے