بریکنگ نیوز

پولیس کی بدنصیبی اور عوام کی بد گمانی تحریر چودھری عمران اشرف



سوشل میڈیا پر 23 سیکنڈ کا ایک ویڈیو کلپ دیکھ کر کلیجہ منہ کو آ گیا ہے۔گزشتہ روز شہید ہونے والے ایلیٹ پولیس فورس کے ایک جوان کی بیٹی اپنے باپ کا چہرہ چوم کر رو رہی ہے۔
ویڈیو دیکھ کر ایسے لگا جیسے یہ میری بیٹی رو رہی ہے کیا آپ کو بھی ایسا ہی محسوس ہوا ہے ؟ اگر نہیں ہوا تو یقین مانیں آپ بہت طاقتور عصاب کے مالک ہیں۔
درد دل رکھنے والے عام پاکستانیوں سے چند سوال ہیں جواب دینا ضروری نہیں لیکن خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا پولیس والوں کی شہادت پر بھی کبھی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنے ہیں یا پولیس والوں کے گھروں میں ماتم اور جنازے بھی کبھی میڈیا پر دکھائے گئے ہیں اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟ پولیس والا ایک بندہ غلطی کرے تو تمام پولیس والوں کے خلاف نفرت انگیز مواد شئیر کیا جاتا ہے باقاعدہ نفرت انگیز مہم چلائی جاتی ہے نیوز چینل پرائم ٹائم میں پورا پورا پروگرام پولیس کے خلاف پولیس کا نقطہ نظر لیے بغیر صرف ایک واقعہ پر کر دیتے ہیں لیکن پولیس کے 8 جوان ایک ہی دن میں شہید ہو گئے میڈیا پر مکمل خاموشی۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟
شہید ہونے والے جوان کیوں اور کس کے لئے شہید ہوتے ہیں؟
کیا ان کا دہشت گردوں اور ڈاکوؤں سے کوئی ذاتی مسئلہ ہوتا ہے یا ریاست کی رٹ بحال کرنے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوتے ہیں ؟
اگر ذاتی مسئلہ نہیں ہوتا تو یقیناً عوام کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے اور ریاست کی رٹ بحال کرتے ہوئے اپنی جان قربان کرتے ہیں۔
اس کے باوجود آج کسی بھی عام پاکستانی کو اس شہید پولیس والے کی معصوم بیٹی کے آنسو نظر کیوں نہیں آئے؟

دہشت گردوں اور جرائم پیشہ کے حقوق کی خاطر موم بتیاں جلانے والوں کو پولیس کی قربانیاں نظر نہیں آئیں یا اس طرح کی قربانیاں دیکھ کر وہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں؟

اپنی جان سے بڑی قربانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہے لیکن ہم پولیس والوں کی بدقسمتی دیکھیں کہ ہم اپنی جان دے کر بھی عوام کی نظروں میں اپنا مقام بحال کرنے میں ناکام ہیں۔

ہماری جان گئی ۔۔۔
تمھاری بدگمانی نہ گئی !

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے