بریکنگ نیوز

بڑے چوهدری صاحب کی بیٹی - . ملک عبدالغفور


 _
.
یہ ہمارے ناہموار اور بے انصافی پر مبنی معاشرتی رویوں کی ایک سچی کہانی هے _
خالہ جان مرحومہ گاؤں میں رہتی تهیں __ساتهہ والے احاطے میں ایک فری لانسر مزدور کی رهائش _ درمیان میں دیوار نہیں تهی _حد بندی کیلئے کانٹوں کی ایک باڑ ہوتی تهی _اسی پچاسی سال اس مزدور کے والد والده کی عمر __ پهر بیوی _باره تیره سال کی بڑی بیٹی اور تین چهوٹے بیٹے __کچهہ مرغیاں , دو گدهے اور ایک کتا _یہ اُسکا کل کنبہ تها _
تب میں ستره اٹهاره سال کا تها _ جب بهی گاؤں میں والی بال کا کوئی اہم میچ ہوتا __مجهے بلایا جاتا _ 
ایک دن کهیلنے کیلئ پہنچا تو کزن حضرات کسی بات پر بڑا  هنس رهے تهے _میں نے بات پوچهی تو پتا چلا کہ ساتهہ والے مزدور کی بیٹی رات سے غائب هے _ شاید کسی کے ساتهہ بهاگ گئی هے __ اِس بات پر خوب مذاق بن رها تها _ اندر گیا تو خالہ کی کچهہ سہیلیاں تندور پر روٹیاں لگا رہی اور دو چار خواتین بیل جوت کے گندم پیس رہیں __سب کے پاس ایک ہی موضوع ___مزدور کی بیٹی بهاگ گئی __ دکان پر گیا تو بهی یہی بات __ ہر بنده قہقہے لگا کر لڑکی اور اُسکے غریب باپ کا مذاق بنا رہا تها_
 شام میچ کهیل کر واپس آیا تو پتہ چلا کہ گاؤں کے بڑے چوهدری صاحب نے لڑکی کے پورے کنبے کو اپنی حویلی میں طلب کر رکها ہے _ 
چوهدری صاحب والد مرحوم کے دوست تهے _ رات پنچایت میں میں بهی چلا گیا __ پہلے اُن غریبوں سے گالیوں کی زبان میں کچهہ سوال جواب ہوا _ پهر بهاگ جانے والی لڑکی کے باپ اور دادا کو بطور سزا مونہہ پر جوتے مار ے گئے _اخیر میں یہ حکم صادر ہوا کہ چونکہ تم لوگوں کی وجہ سے گاؤں کی عزت خراب هوئی ہے لہذا کل دوپہر تک گاؤں چهوڑ دو _
 اگلی صبح میں نے دیکها کہ آگے گهریلو سامان سے لدے دو گدهے اور کتا __ پیچهے لڑکی کے دادا , دادی اور والد , والده __آخر میں هاتهوں میں مرغیاں پکڑے لڑکی کے تین چهوٹے بهائی گاؤں چهوڑ کر جا رہے تهے _ 
دور پرے گاؤں کی حد پر جا کر  اُن لوگوں نے واپس مڑ کر کچهہ دیر اپنا گهر دیکها اور پهر ہمیشہ کیلئے اپنا گراں چهوڑ دیا _
 پنچائت کے سربراه بڑے چوهدری صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تهی _ چند ماه بعد خبر سنی کہ چوهدری صاحب کی اکلوتی بیٹی اپنے ہی ٹریکٹر ڈرائیور کے ساتهہ بهاگ گئی ہے _
خالہ سے پوچها کہ خالہ جی یہ کیا قصہ هے __خالہ نے سختی سے روک دیا کہ چپ کرو __ چوهدری کی بیٹی هے __کزنوں سے پوچها که تم بتاؤ __ انہوں نے بهی منع کر دیا کہ بهائی خاموش رهو __بات مت کرو __گاؤں کی عزت کا سوال هے __ جس سے بهی بات کرتا وه هونٹوں پر اُنگلی رکهہ کر کہتا ___شی ___یہ بات نہیں کرنا ___ ہماری عزت خراب هو گی _
میں انتظار ہی کرتا رہا کہ اب بهی کوئی پنچائیت بیٹهے گی __چوهدری صاحب کو جوتے مارے جائیں گے جیسے اُس غریب پچاسی سالہ بابا جی کو مارے گئے تهے __ اور اخیر میں گاؤں سے بهی اسی طرح نکال دیا جائے گا __ لیکن ایسا کچهہ بهی نا ہوا _ اب کی بار گاؤں کی عزت پر کوئی حرف نا آیا _
کچهہ دنوں بعد پتا چلا کہ ٹریکٹر ڈرائیور تو نامعلوم ہے لیکن چهوٹی چوهدرانی  کو واپس لا کر دور پار کے عزیزوں میں اُس کی شادی کر دی گئی ہے _
 بڑے چوهدری صاحب کی دس مربع ذرعی زمین کی ملکیت تهی _پوری تحصیل میں اُن کو معزز مانا جاتا تها _ دو فٹ اُونچے شملے والی مائع لگی پگڑی باندهتے _ نواب کالا باغ جیسی مونچهوں کیساتهہ کیا شاندار پرسنیلٹی تهے _
بیٹی والے اس واقعہ کے بعد انہوں نے مسجد میں جانا بهی چهوڑ دیا _ چند ماه ہی زنده رہے __ بڑی چوهدرانی خالہ کو بهی چپ ہی لگ گئی اور ایک سال بعد وه بهی فوت هو گئیں __ بیٹوں نے گهر سے نکلنا چهوڑ دیا __ ساری زمین ٹهیکے پر دیکر گاؤں کے راستے میں ایک مسجد اور یتیم خانہ بنوا دیا اور خود پاکستان چهوڑ کر یورپ میں جا بسے _
سال میں ایک بار  مالٹے پکنے کے موسم میں خالہ کے گاؤں بلایا جاتا هوں __ بڑے چوهدری صاحب کی وه حویلی اب سنسان ہے __آواره کتوں کا بسیرا __کهڑکیوں پر جالے , چهت پر جهاڑ جهنکار اور دیواروں پر کائی _ اب وہاں رہنے والا ہی کوئی نہیں __ 
حویلی کی ویرانی دیکهہ کر یاد آ جاتا هے کہ اِس حویلی کے مالک نے بہت سال پہلے پورے گاؤں کی موجودگی میں ایک پچاسی سالہ بے قصور اور ضعیف بزرگ کے چہرے پر جوتے مار مار کر اُس کو گاؤں سے نکالا تها _
 .

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے