بریکنگ نیوز

فارچون ٹیلر ---- ظفرجی



آج سے قریبا 850 سال قبل ھندوستان میں ایک صوفئ با کمال حضرت نعمت اللہ شاہ ولی گزرے ہیں- آپ کے فارسی اشعار پر مشتمل دیوان میں ایک قصیدہ بہت مشہور ہے- اس میں آنے والے زمانوں کی پیشن گوئیاں فارسی اشعار کی صورت کی گئ ہے-
ان پشین گویوں کو دیکھ کر انسانی عقل یقیناً دنگ رہ جاتی ہے- حضرت نعمت اللہ شاہ ولی اپنے زمانے سے 100 تا 800 سال بعد آنیوالے ہر حادثے کی خبر دیتے ہیں- مسند سلطانی پر بیٹھنے والے ہر عظیم پادشاہ کا نام لے کر تعارف کراتے ہیں- جبکہ وہ حکمران ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔
اس قسم کی پشین گویاں کئ ھندو جوتشیوں نے بھی کیں مگر جو کمال نعمت شاہ کے حصے میں آیا کوئ سوچ بھی نہیں سکتا- قصیدے کی شروعات میں مشہور مغل بادشاہ امیر تیمور کا ذکر ہے- واضح رہے کہ امیر تیمور اس قصیدے کے دو سو برس بعد ظاہر ہوا-
اسکے بعد لودھی خاندان کے حکمران سکندر لودھی اور ابراہیم لودھی کا ذکر ہے۔ پھر ان کے بعد آنے والے مغلیہ حکمرانوں مثلاً بابر ،ہمایوں اکبر، جہانگیر اور شاہجہاں کا ذکر ہے- پھر خاندان مغلیہ کے 300 سالہ دور حکومت کا ترتیب وار احوال ، تمام حکمرانوں کے نام اور ان کی مدت حکمرانی- ساتھ ہی گورونانک فقیر اور سکھ مذھب کی ترویج کا تذکرہ- پھر سکھا شاھی کے مسلمانوں پر مظالم کا تذکرہ-
بات یہیں ختم نہیں ہوئ-;نعمت شاہ ولی انگریز کی ہندوستان میں بغرضِ تجارت آمد ، سلطنتِ مغلیہ کے زوال ، اور انگریز کی سو سالہ حکمرانی کی پشین گوئ اس کرتے ہیں گویا پورا منظر آنکھوں سے سامنے دیکھ رہے ہوں-
مزید سنیے ... نعمت شاہ ولی نے نہ صرف بیسویں صدی میں برپا ہونے والی عالمی جنگوں کا ذکر کیا ہے بلکہ پہلی جنگ عظیم کا دورانیہ اور اس میں ایک کروڑ 31 لاکھ لوگوں کی ہلاکت کی پیشن گوئی بھی فرمائ ہے- پھر اس جنگ کے 21 سال بعد برپا ہونے والی جنگ عظیم دوئم کی تباھیوں کی خبر بھی دی ہے-
اس کے بعد نعمت شاہ ، انگریز کی ھندوستان سے رخصتی کا ذکر کرتے ہیں ، جدید سائنسی دور کی پشین گوئ کرتے ہیں ، مہلک جنگی ہتھیاروں کا احوال بتاتے ہیں ، مشرق میں بیٹھ کر مغرب سے آنے والی آوازوں اور نغموں کو سننے والے سائنسی آلات کی خبر سناتے ہیں-
پھر متحدہ ہندوستان کی سیاسی و جغرافیائ تقسیم کا ذکر ہے- کافروں اور مسلمانوں کے الگ الگ ملک بن جانے کی پشین گوئ ہے-
آگے چلئے ، ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کا ذکر ، جنگ کا دورانیہ ”ایام ہفدہ“ (سترہ دن) ، جنگ میں مسلمانوں کی فتح کی بشارت ، یقیناً کمال کی بات ہے-
نہ صرف یہ بلکہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی قیام پاکستان کے ”بست و سہ ادور“ یعنی 23 سال بعد دوبارہ بھارت کے ساتھ 1971ء کی جنگ اور مسلمانوں کی خونریزی و تباہی کی داستان المناک نہایت سوز و گداز کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
توفیق الہٰی سے غیب کے پردوں میں جھانکنے والے یہ ولی اللہ ماضی قریب، حال اور مستقبل میں کثیر الجہت سماجی اور معاشی برائیوں، سود، رشوت، بدعت، شراب خوری، عصمت فروشی، فسق و فجور، اغلام بازی اور مادر پدر آزاد جنسی سیاہ کاری، علماء اور مفتیان کی جہالت اور ریا کاریوں کا تذکرہ آزادنہ اور بے باکانہ طور سے کرتے ہیں۔
اس کے بعد زمانہ حال کا ذکر ہے- یہاں تک کہ ججز اور حکومت کی لڑائی ، عدلیہ کا "شریف" کی بجائے ”چور“ اور ”ڈاکو“ کے سر پر دستار فضیلت رکھنے کا عزم- سبحان اللّہ !!!
نعمت شاہ ولی کے مطابق اس دور کی حکومتیں ترقیاتی کاموں کی بجائے اپنے پر فریب نعروں سے عوام کو بے وقوف بنانے پر سرگرم ہوں گی-
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے ماضی اور زمانہ حال کے واقعات کے علاوہ اس مستقبل کا بھی ذکر ہے جو ابھی ہم پر ظاہر نہیں ہوا- اس کا احوال اگلی قسط میں ان شاءاللہ !!!!
فی الحال یہی چیز باعثِ اطمینانِ پٹوارخانہ سمجھی جائے کہ تاریخ کی موجودہ گھڑی میں ہم "راشی ججز" ، "زکات چور" یا کسی "ڈاکو" کی بجائے "شرفاء" کے ساتھ کھڑے ہیں-

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے